کراچی میں ڈاکٹر سید مبین اختر تحریک نفاذ اردو کے سربراہ و سرپرست ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر شریف نطامی اور ڈاکٹر سید مبین اختر کی تحریکوں
میں باہم کوئی ربط ہے یا یہ دونوں الگ الگ ایک ہی مقصد کے لئے کام کر رہے
ہیں۔ ڈاکٹر مبین اختر ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اسی شعبہ میں امریکہ سے سند
یافتہ ہیں۔ کراچھی نفسیاتی ہسپتال ناظم آباد انہی کا ہے۔ مبین اختر ایک
اسکول بھی چلاتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ پاکستان مین نفاذ اردو کا علم
اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہر مہینہ کے پہلے منگل کوان کے ادارے میں تحریک کا اجلاس منعقد ہوتا ہے، جس میں شہر کے ادباء و شعراء بھی شریک ہوتے ہیں۔ تحریک کا ایک ماہنامہ مجلہ بھی شائع ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ مجھے بھی ان اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملتا رہا ہے۔ مبین صاحب نے تو پاکستان کی سرکاری زبان اردو بنوانے کے سلسلہ میں قانونی کاروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔ کئی ایک پٹیشن عدالتوں میں چل رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
میرے
خیال سے پاکستان میں نفاذ اردو کا تعلق ”اردو ذریعہ تعلیم“ سے نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب پاکستان میں ایک معمولی کلرک بھی انگریزی میں کلرکی کرنے
پر مجبور ہے تو ”اردو ذریعہ تعلیم“ کے ذریعہ اردو کوکیسے ”فروغ“ دیا جاسکتا
ہے۔ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ حیدرآباد دکن کی ریاست میں اردو میں
میڈیسن اور انجیئنرنگ کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ پاکستان میں حکیم محمد
سعید کا ادارہ طب یونانی کی تعلیم اردو میں دیتا چلا آیا ہے۔ بابائے اردو
مولوی عبد الحق اور انجمن ترقی اردو کے تحت کراچی مین اردو کالج کا قیام
عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں اردو سائنس کالج بنی، جہاں ایم ایس سی تک اردو
میں تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ اب یہ اردو یونیورسٹی بن چکی ہے۔ اور اس کا ایک
کیمپس اسلام آباد میں بھی ہے۔، اس ادارہ میں سائنس میں ماسٹرز کے علاوہ ایل
ایل بی، ایل ایل ایم اور ایم بی اے تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے اسی
تعلیمی ادارے سے ایم ایس سی اور ایم اے صحافت کی ساری تعلیم اردو میں حاصل
کی ہے اور کالج مجلہ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہونے کے باعث اردو نطام تعلیم
کے شعبہ میں تھوڑا بہت کام بھی کیا ہے۔ ایک دلچسپ اسائنمنٹ مجھے یہ دیا
گیا کہ کراچی کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے ”فروغ اردو“ کے
ضمن میں انٹرویو کروں۔ تب میں نے این ایڈی انگینرنگ کالج، ڈاؤ میڈیکل کالج،
داؤد انجینئرنگ کالج کے سربراہوں سمیت متعدد اساتذہ کرام سے ملاقاتیں کیں
اور ”اردو ذریعہ تعلیم“ کے سلسلہ میں ان کا انٹرویو لیا
جب عملی
زندگی کا آغاز ایک ملٹی نیشنل کمنی سے کیا، جہاں دوران انٹرویو پوچھا گیا
کہ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے۔ اور جب میں نے ”فخریہ“ بتلایا کہ اردو
کالج سے تو بڑی ”حقارت“ سے کہا گیا کہ پھر وہاں تو اردو میں پڑھایا جاتا
رہا ہوگا۔ وہ تو شکر ہے کہ تحریری امتحان میری کارکردگی اچھی تھی اور
انٹرویو بھی اچھا ہوا تھا، اس لئے مجھے منتخب کرلیا گیا۔ اس کے بعد سے میں
نے اپنے اس ”فخر“ سے توبہ کر لیا۔ اور آئندہ اپنے سی وی میں کراچی
یونیورسٹی کا نام ہی لکھتا رہا کہ بہر حال ڈگری تو اسی جامعہ سے حاصل کی
تھی۔
پھر ”اپنے ذاتی تجربہ“ کی وجہ سے میں نے اپنے ہر بچہ کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی داکل کروایا۔
اور الحمد للہ آج وہ میڈیسین، انجینرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریش جیسی پیشہ
ورانہ تعلیم شہر کے بہترین تعلیمی اداروں سے حاصل کر رہے ہیں۔ اگر وہ بھی
میری طرح اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے تو کبھی بھی ان اداروں کے ”اندر“
داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ آج پاکستان میں اردو میڈیم میں میٹرک اور انٹر پاس
کرنے والے شاید ہی پانچ دس فیصد ایسے ہوں گے، جو اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم
حاصل کرپاتے ہوں گے۔ ملک کی سرکاری زبان انگریزی کے ہوتے ہوئے ”اردو ذریعہ
تعلیم“ کا فروغ محض بچوں کو ناکارہ یا ڈگری یافتہ بے روزگار بنانے کے مترادف ہے۔ اگر شہباز شریف ملک کی سرکاری زبان اردو نہیں کرسکتا تو اس کا یہ قدم بہت اچھا ہے کہ اس نے کم از اپنے صوبہ کی حد تک
ذریعہ تعلیم ہی انگریزی کردی ہے (اگر کی ہے تو) تاکہ غریبوں اور عوام
الناس کے بچے بھی انگریزی میڈیم میں پڑھ کر مہنگے نجی اسکولوں مین پڑھنے
والے طلبہ کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرسکیں اور محض اپنے والدین کی غربت کے سبب وہ اعلیٰ تعلیم کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
پھر ”اپنے ذاتی تجربہ“ کی وجہ سے میں نے اپنے ہر بچہ کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی داکل کروایا۔
اور الحمد للہ آج وہ میڈیسین، انجینرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریش جیسی پیشہ
ورانہ تعلیم شہر کے بہترین تعلیمی اداروں سے حاصل کر رہے ہیں۔ اگر وہ بھی
میری طرح اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے تو کبھی بھی ان اداروں کے ”اندر“
داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ آج پاکستان میں اردو میڈیم میں میٹرک اور انٹر پاس
کرنے والے شاید ہی پانچ دس فیصد ایسے ہوں گے، جو اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم
حاصل کرپاتے ہوں گے۔ ملک کی سرکاری زبان انگریزی کے ہوتے ہوئے ”اردو ذریعہ
تعلیم“ کا فروغ محض بچوں کو ناکارہ یا ڈگری یافتہ بے روزگار بنانے کے مترادف ہے۔ اگر شہباز شریف ملک کی سرکاری زبان اردو نہیں کرسکتا تو اس کا یہ قدم بہت اچھا ہے کہ اس نے کم از اپنے صوبہ کی حد تک
ذریعہ تعلیم ہی انگریزی کردی ہے (اگر کی ہے تو) تاکہ غریبوں اور عوام
الناس کے بچے بھی انگریزی میڈیم میں پڑھ کر مہنگے نجی اسکولوں مین پڑھنے
والے طلبہ کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرسکیں اور محض اپنے والدین کی غربت کے سبب وہ اعلیٰ تعلیم کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
No comments:
Post a Comment