Monday, 31 December 2012

تحریک نفاذ اردو

کراچی میں ڈاکٹر سید مبین اختر تحریک نفاذ اردو کے سربراہ و سرپرست ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر شریف نطامی اور ڈاکٹر سید مبین اختر کی تحریکوں میں باہم کوئی ربط ہے یا یہ دونوں الگ الگ ایک ہی مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مبین اختر ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اسی شعبہ میں امریکہ سے سند یافتہ ہیں۔ کراچھی نفسیاتی ہسپتال ناظم آباد انہی کا ہے۔ مبین اختر ایک اسکول بھی چلاتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ پاکستان مین نفاذ اردو کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہر مہینہ کے پہلے منگل کوان کے ادارے میں تحریک کا اجلاس منعقد ہوتا ہے، جس میں شہر کے ادباء و شعراء بھی شریک ہوتے ہیں۔ تحریک کا ایک ماہنامہ مجلہ بھی شائع ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ مجھے بھی ان اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملتا رہا ہے۔ مبین صاحب نے تو پاکستان کی سرکاری زبان اردو بنوانے کے سلسلہ میں قانونی کاروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔ کئی ایک پٹیشن عدالتوں میں چل رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
میرے خیال سے پاکستان میں نفاذ اردو کا تعلق ”اردو ذریعہ تعلیم“ سے نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان میں ایک معمولی کلرک بھی انگریزی میں کلرکی کرنے پر مجبور ہے تو ”اردو ذریعہ تعلیم“ کے ذریعہ اردو کوکیسے ”فروغ“ دیا جاسکتا ہے۔ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ حیدرآباد دکن کی ریاست میں اردو میں میڈیسن اور انجیئنرنگ کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ پاکستان میں حکیم محمد سعید کا ادارہ طب یونانی کی تعلیم اردو میں دیتا چلا آیا ہے۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق اور انجمن ترقی اردو کے تحت کراچی مین اردو کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں اردو سائنس کالج بنی، جہاں ایم ایس سی تک اردو میں تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ اب یہ اردو یونیورسٹی بن چکی ہے۔ اور اس کا ایک کیمپس اسلام آباد میں بھی ہے۔، اس ادارہ میں سائنس میں ماسٹرز کے علاوہ ایل ایل بی، ایل ایل ایم اور ایم بی اے تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے اسی تعلیمی ادارے سے ایم ایس سی اور ایم اے صحافت کی ساری تعلیم اردو میں حاصل کی ہے اور کالج مجلہ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہونے کے باعث اردو نطام تعلیم کے شعبہ میں تھوڑا بہت کام بھی کیا ہے۔ ایک دلچسپ اسائنمنٹ مجھے یہ دیا گیا کہ کراچی کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے ”فروغ اردو“ کے ضمن میں انٹرویو کروں۔ تب میں نے این ایڈی انگینرنگ کالج، ڈاؤ میڈیکل کالج، داؤد انجینئرنگ کالج کے سربراہوں سمیت متعدد اساتذہ کرام سے ملاقاتیں کیں اور ”اردو ذریعہ تعلیم“ کے سلسلہ میں ان کا انٹرویو لیا
 جب عملی زندگی کا آغاز ایک ملٹی نیشنل کمنی سے کیا، جہاں دوران انٹرویو پوچھا گیا کہ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے۔ اور جب میں نے ”فخریہ“ بتلایا کہ اردو کالج سے تو بڑی ”حقارت“ سے کہا گیا کہ پھر وہاں تو اردو میں پڑھایا جاتا رہا ہوگا۔ وہ تو شکر ہے کہ تحریری امتحان میری کارکردگی اچھی تھی اور انٹرویو بھی اچھا ہوا تھا، اس لئے مجھے منتخب کرلیا گیا۔ اس کے بعد سے میں نے اپنے اس ”فخر“ سے توبہ کر لیا۔ اور آئندہ اپنے سی وی میں کراچی یونیورسٹی کا نام ہی لکھتا رہا کہ بہر حال ڈگری تو اسی جامعہ سے حاصل کی تھی۔:)   پھر ”اپنے ذاتی تجربہ“ کی وجہ سے میں نے اپنے ہر بچہ کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی داکل کروایا۔ اور الحمد للہ آج وہ میڈیسین، انجینرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریش جیسی پیشہ ورانہ تعلیم شہر کے بہترین تعلیمی اداروں سے حاصل کر رہے ہیں۔ اگر وہ بھی میری طرح اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے تو کبھی بھی ان اداروں کے ”اندر“ داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ آج پاکستان میں اردو میڈیم میں میٹرک اور انٹر پاس کرنے والے شاید ہی پانچ دس فیصد ایسے ہوں گے، جو اعلیٰ  پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرپاتے ہوں گے۔ ملک کی سرکاری زبان انگریزی کے ہوتے ہوئے ”اردو ذریعہ تعلیم“ کا فروغ محض بچوں کو ناکارہ یا ڈگری یافتہ بے روزگار بنانے کے مترادف  ہے۔ اگر شہباز شریف ملک کی سرکاری زبان اردو نہیں کرسکتا تو اس کا یہ قدم بہت اچھا ہے کہ اس نے کم از اپنے صوبہ کی حد تک ذریعہ تعلیم ہی انگریزی کردی ہے (اگر کی ہے تو) تاکہ غریبوں اور عوام الناس کے بچے بھی انگریزی میڈیم میں پڑھ کر مہنگے نجی اسکولوں مین پڑھنے والے طلبہ کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرسکیں اور محض اپنے والدین کی غربت کے سبب وہ اعلیٰ تعلیم کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

Wednesday, 26 December 2012

دارالکفر اور دارالحرب

اسلام اور دہری شہریت

ڈاکٹر فقیر حسین حجازی


اس وقت وطنِ عزیز کے طول و عرض میں دہری شہریت کے حامل ارکانِ پارلیمنٹ کی اسمبلی رکنیت کے لیے اہلیت وعدمِ اہلیت کا مسئلہ ، عدالت وایوانوں کی چاردیواری سے گزر کرمیڈیا اورچوپالوں کا موضوع ِسخن بنا ہوا ہے ۔ مختلف طبقات کے لوگ جواز وعدمِ جوازہر دو پہلو پر قانونی، سیاسی اورعقلی حوالوں سے دلائل فراہم کرنے میں اپنے ملکہ استدلال کوبروئے کار لارہے ہیں ۔ چونکہ مسئلے کا تعلق امت کے اجتماعی مفاد سے ہے اس لیے ہم نے ضروری خیال کیا کہ اس مسئلے کی شرعی حیثیت پر بھی قلم کو حرکت دی جائے۔
اس سے قبل کہ زیر ِبحث مسئلہ کی گہرائی میں جائیں آغاز کلام ہی میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ موسمی وجغرافیائی اعتبار سے خوبصورت ومعتدل خطہ ہائے ارض ، قدرتی وسائل سے مالا مال براعظم اورزمینی جنتوں کو خیرآباد کہہ کر دیارِغیر میں جا بسنے والے ،کفرستانوں کی شہریت اختیار کرنے والے ،وقت کے طاغوت اورفرعون ِزمانہ کا روپ دھارنے والے ممالک کو ایک شہری کی حیثیت سے اپنا مسکن ومستقر بنانے والے مسلمانوں کی عظیم اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اپنے وطن کی معاشی ابتری، امن وامان کی ناقص صورتحال ،روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی وبے روزگاری اورنااہل وناترس حکمرانوں کے ظلم وستم ، قید وبند کی صعوبتوں اورظلماً جائیدادوں کی ضبطی سے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ہیں ۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنے ہی ملکوں سے بے دخل کیے جانے والے اور عزت و آبرواور جان وایمان کے تحفظ کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھانے والے ان مسلمانوں کے لیے کسی مسلم ملک کے حکمران کے کان پر کوئی جوں رینگتی ہے نہ دل میںکوئی ٹیس اٹھتی ہیں۔ان لوگوں کو کسی دارالکفر میں پناہ لینے کے سوا کوئی سبیل نظر نہیں آتی ہے۔مسلم حکمرانوں کے اس شرمناک رویے پر جس قدر افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہے۔
زیر بحث مسئلے کے تین پہلو ہیں اورہم ہر پہلو پر الگ گفتگو کریںگے:
(۱)  مسلم ملک کو چھوڑ کر غیر مسلم ملک میں سکونت اختیار کرنا ،خواہ وقتی طور پرہویا ایک شہری کی حیثیت سے مستقلاً بنیادوں پر ۔
(۲)  ـغیر مسلم ملک کی شہریت رکھنے والے مسلمان کے ساتھ مسلم ریاست کی رعایا کے تعلقات کی نوعیت اور ان کی حدود۔
(۳)کسی مسلمان کا مسلم ملک کی شہریت رکھنے کے باوجود کسی غیرمسلمان ملک کی دُہری شہریت اختیار کرنا ۔
جہاں تک مسئلے کے پہلے پہلو کا تعلق ہے تو اس کا حکم حالات وواقعات، زمان و مکاں اورمقاصد کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے۔ مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی نے اس مسئلے کو پانچ صورتوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کا الگ حکم بیان فرمایا ہے۔
( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہی مقالات:ج۱)
(۱)  اگر ایک مسلمان کو حاکم وقت یا کسی باغی گروہ یاظالم کی جانب سے کسی جرم کے بغیر ظلماً تختہ مشق بنا یا جارہا ہو جیسا کہ بدنصیبی سے  فی زمانہ بلا استثناء تمام مسلم ممالک میں اسلام پسندوں کے ساتھ سلوک روا رکھا جارہا ہے ،جھوٹے مقدمات کے شکنجے میں جکڑا جارہا ہو اور عرصہ حیات کو تنگ کردیا گیا ہو اور اس صورت حال سے نجات کی کوئی سبیل باقی نہ رہی ہو توایسے میں اس شخص کے لیے اپنی جان اورآبرو کے بچائو کیے لیے کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا اور وہاں کی شہریت اختیار کرنا بلاکراہت جائز ہے ۔ بشرطیکہ وہاں جاکر دین وایمان کے تحفظ ، احکام ِدین پر عمل اور کسی حرام کے اندر مبتلا نہ ہوجانے کا یقین ہو۔
(۲)  اگر کوئی شخص معاشی بدحالی کاشکار ہوجائے اور تلاشِ بسیار کے باوجود اپنے مسلم ملک کے اندر اس قدر رزقِ حلال نہ کماپارہا ہو جو اس کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی ہو ،بلکہ جسم اور روح کے رشتے کو قائم رکھنے کے لیے نان جو یں کو ترس رہا ہو اور اس صورتحال میں اسے کسی غیر مسلم ملک میں کوئی جائز باعزت روزگار مل جائے جس کی وجہ سے وہ وہاں رہائش اختیار کرلے تو جائز ہے، لیکن صورت نمبر 1کے ضمن میں بیان کی گئی شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا، اس لیے کہ رزقِ حلال کی تلاش وجستجو فرض ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
عن عبد اللہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی)
جس کے لیے شریعت نے کسی مکان اوروطن کی قید کے بجائے مطلق اجازت دی ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے:
ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا وَکُلُوْا مِن رِّزْقِہٖ وَإِلَیْْہِ النُّشُورُ
(سورہ الملک:آیت۱۵)
’’وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر کردیا ، پس تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کے رزق میں سے کھائو، اور اسی کے پاس تمہیںدوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے‘‘۔
(۳)  اسی طرح اگر کسی شخص کاغیرمسلم ملک میں رہائش رکھنے کا مقصد اسلام کی تبلیغ واستقامت،وہاں پر پہلے سے موجود مسلمانوں کو دین کی تعلیم ،نو مسلموں کی تربیت اور اسلام پر استقامت کی تلقین کرنا ہو تو اس صورت میں وہاں رہائش اختیار کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ اجر وثواب کا باعث اوردینی خدمت ہے ۔ اسی جذبے سے سرشار بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورتابعین عظامؒ نے اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر غیر مسلم ممالک کو مسکن بنایا تھا جو بعد میں ان کے فضائل ومناقب میں اضافے کا باعث بنا ۔
(۴)  اگر کسی شخص کو اپنے مسلم ملک میں اس قدر معاشی وسائل ومواقع میسر ہوں جن سے تعلیم، صلاحیت اورمعیار زندگی میں اپنے شہر کے ہم پلہ لوگوں کے متوازی زندگی گزار سکتا ہے لیکن ھل من مزید کی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہوکر محض اپنے معیارِزندگی کو بلند کرنے اورخوشحالی وتعیشات کی زندگی گزارنے کے لیے کسی غیر مسلم ملک کا رخ کرتا ہے تو یہ ’’ہجرت‘‘کراہت سے خالی نہیں ہے بلکہ صرف معیار ِزندگی کو بلند کرنے کی خاطر، منکرات وخواہش کی دلدل میں خود کو ڈال کر چکائی جانے والی قیمت اس خوشحالی سے کہیں زیادہ  اوراپنے ہاتھوں خود کو بے حیائی کے طوفان میں ڈالنے کے مترادف ہے اور ہر عقل مند شخص کو ایسی چیز سے اجتناب کرنا چاہیے جس کے مفاسد اس کے منافع سے زیادہ ہوں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قُلْ فِیْہِمَا إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا۔
(سورۃ البقرۃ،آیت:۲۱۹)
اس لیے کہ مسلسل کافرانہ فضا اور ماحول میں رہنے سے ایک طرف اگر دینی حمیت وجذبہ کمزور پڑجاتا ہے تو دوسری طرف حالات سے ’’مصالحت‘‘اور مدا ہنت پسندی مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ اور تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ خاصے دیندار لوگ بھی چند ہی دنوں میں وہاں کی نگاہ وفکر کو خیرہ کردینے والی مادی ترقی کے تندور کے سامنے برف کی اینٹ اورتہذیب وتمدن کے تاج محل کے مقابلے میں ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔
اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید ضرورت کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
چنانچہ ابودائود میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ؐ نے ارشاد فرمایا:
من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ۔
(سنن ابی داؤد:باب الاقامۃ فی ارض الشرک)
’’جو شخص مشرکین کی ہاں میں ہاں ملائے اور ان کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ انہیںکے مثل ہے‘‘۔
امام طبرانی  ؒحضرت جریر ؓ بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
انابریئ من کل مسلم یقیم بین اظہر المشرکین ، قالوا یا رسول اللہِ لِم؟ قال لا تراء ی ناراہما۔
(المعجم الکبیر للطبرانی:جلد دوم)
’’میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ کیا ہے،آپ نے فرمایا تم یہ تمیز نہیںکر سکتے کہ یہ کس کی آگ ہے‘‘۔
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے :
عن جرِیرِ بنِ عبدِ اللہِ قال بعث رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم سرِیۃ ِالی خثعم فاعتصم ناس مِنہم بِالسجودِ فاسرع فِیہِم القتل قال فبلغ ذلِک النبِی صلی اللہ علیہِ وسلم فامر لہم بِنِصفِ العقلِ وقال انا برِیئ مِن کلِ مسلِم یقِیم بین اظہرِ المشرِکِین قالوا یا رسول اللہِ لِم قال لا تراء ی ناراہما۔
’’حضرت جریر بن عبد اللہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اکرم  ﷺنے بنو خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان میں سے چند لوگ سجدوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کرنے لگے ،لیکن اس کے باوجود امیر جیش نے جنگ مزید تیز کردی ،جب یہ خبر آپؐ تک پہنچی تو آپؐ نے آدھی دیت دینے کا فیصلہ فرمایااور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا :تم یہ تمیز نہیںکر سکتے کہ یہ کس کی آگ ہے۔
امام خطابی  ؒنے علماء سے مذکورہ بالا حدیث کی متعدد تشریحات نقل کی ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’مختلف اہلِ علم نے اس قول کی مختلف طریقوں سے تشریح کی ہے ، بعض علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اور مشرک حکم کے اعتبار سے برابر نہیں ہوسکتے، دونوں کے مختلف احکام ہیں، بعض دیگر علماء کا کہنا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام اور دارالکفر کو علیحدہ علیحدہ کردیا ہے ، لہٰذا کسی مسلمان کے لیے کافروں کے وطن میں ان کے ساتھ رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ہے اس لیے کہ جب مشرکین اپنی آگ روشن کریں گے اور یہ مسلمان ان کے ساتھ سکونت اختیار کیے ہوئے ہوگا تو دیکھنے والا یہ خیال کرے گا یہ بھی ا نہی میں سے ہے۔ علماء کی ا س تشریح سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان تجارت کی غرض سے بھی دارالکفر جائے تو اس کے لیے وہاںضرورت سے زیادہ قیام کرنا مکروہ ہے ‘‘۔
(معالم السنن للخطابی:ص: ۴۳۷،ج: ۳)
(جاری ہے)

 

اسلام اور دوہری شہریت-2

 آج کل بعض لوگ دارالکفر اور دارالحرب میں سکونت اختیار کرنے کی سنگینی کو یہ کہہ کر ہلکا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب دارالاسلام ہی کا وجود نہیں تو دارالحرب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دارالاسلام کے عدم وجود کا نتیجہ یہ نہیں ہوسکتا کہ دارالمسلمین اور دارالکفار کے درمیان کوئی فرق ہی باقی نہ رہے اور مسلم اور غیر مسلم ممالک کے مابین پایا جانے والا عداوت کا رشتہ محض اس لیے محبت کے رشتے میں تبدیل ہوجائے کہ دارالاسلام اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہے۔ امت کے معتبر اہلِ علم غیر مسلم ریاستوں کو آج بھی دارالکفر اور دارالحرب ہی کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ یہاں ہم چند متاخرین علماء کرام کی آراء پیش کرتے ہیں جس سے ہماری رائے کی اصابت کا اندازہ کیا جاسکے گا۔
محدثِ جلیل حضرت انور شاہ کاشمیریؒ اس مسئلے کی بابت تحریر فرماتے ہیں:
’’پھر یہ بات بھی قابلِ وضاحت ہے کہ اگر مسلمانوں کا کسی ملک میں داخلہ و قیام اور اظہار احکامِ اسلام غلبہ کی صورت میں نہ ہو تو وہ بدستور دارالحرب ہی رہے گا۔‘‘(انوار الباری: 186/18)
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں:
’’آج کل امریکا اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمان حکومت کی اجازت سے احکام بجا لاتے ہیں۔ بغیر ان کی اجازت کے احکام ِاسلام بجا لانے پر قادر نہیں تو امریکا اور برطانیہ دارالحرب ہیں‘‘۔
(عقائد اسلام:238)
علامہ کاندھلویؒ کی درج بالا عبارت جہاں امریکا اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی صورت حال سے پردہ اٹھارہی ہے، وہاں دارالحرب کی ایک بنیادی شرط بھی بیان کررہی ہے، وہ یہ کہ جس ملک میں احکام ِاسلام پر آزادانہ عمل کی اجازت نہ ہو بلکہ حکومت ِوقت کی بخشی ہوئی آزادی کی حدود ہی میں رہ کر عمل کرنے کی اجازت ہو وہ دارالحرب ہی کہلائے گا، اور کسی کافر ملک کے دارالحرب قرار پانے کے لیے دارالاسلام کے وجود کی شرط لازمی نہیں ہے۔
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
علامہ شبیر احمد عثمانی  ؒ رقمطراز ہیں:
’’بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کہہ سکتے، نہ حکم ِجہاد کی تعمیل کرسکتے ہیں، سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں‘‘۔(تفسیر عثمانی)
علامہ انورشاہ کشمیریؒ کے شاگردِ خاص حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ لکھتے ہیں:
’’ہجرت کی روح ترکِ وطن نہیں بلکہ شرک اور مشرک سے علیحدہ رہنا ہے۔ جہاں شرک کا اقتدار ہو وہاں اسلامی حیات ہرگز نشوونما نہیں پاسکتی۔ اس حالت میں اسلام کی حفاظت صرف ہجرت سے ہی ہوسکتی ہے‘‘۔(ترجمان السنۃ: باب نہی المؤمن تکثیر سواد المشرکین 2/371)
بعض حضرات کو ہندوستان اور اس طرح کے دیگر ممالک کے دارالحرب ہونے سے اس لیے بھی انکار ہے کہ وہاں انفرادی اور خاندانی زندگی میں دین پر عمل اور دعوت وتبلیغ کے لیے میسر مواقع بعض اسلامی ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ ہیں، لیکن ہندوستان کی حیثیت کو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے بڑھ کر کون جانتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں:
’’اگرچہ اس عاجز کے نزدیک راجح یہی ہے کہ ہندوستان دارالحرب ہے‘‘۔ (قاسم العلوم: مطبع مجتبائی۔ صفحہ:177)
اس مسئلے کے پہلے پہلو پر ہم نے حضرت مفتی عثمانی صاحب و دیگر علماء کرام کی عبارات کی روشنی میں تفصیلی بحث قارئین کے سامنے پیش کردی ہے، جہاں تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کی بنیاد سورۃ انفال کی آیت نمبر 72 کا وہ حصہ ہے جس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ) ’’رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام) میں آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں‘‘۔
ولایت کا لفظ عربی زبان میں جماعت، نصرت، مددگاری، پشتیبانی، دوستی، قرابت، سرپرستی اور اس سے ملتے جلتے مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔
(تفہیم القرآن:2/161)
بعض علماء نے رشتۂ ولایت کو اس کے وسیع معانی پر محمول کیا ہے۔ مولانا مودودیؒ اس رشتے کو اسلامی ریاست کی ارضی حدود کے اندر بسنے والے مسلمانوں کے درمیان محدود قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ ’’ولایت‘‘ کا تعلق صرف اُن مسلمانوں کے درمیان ہوگا جو یا دارالاسلام کے باشندے ہوں، یا اگر باہر سے آئیں تو ہجرت کرکے آجائیں۔ باقی رہے وہ مسلمان جو اسلامی ریاست کے حدودِ ارضی سے باہر ہوں تو ان کے ساتھ مذہبی اخوت تو ضرور قائم رہے گی لیکن ’’ولایت‘‘کا تعلق نہ ہوگا۔ اور اسی طرح ان مسلمانوں سے بھی یہ تعلق ِولایت نہ رہے گا جو ہجرت کرکے نہ آئیں بلکہ دارالکفر کی رعایا ہونے کی حیثیت سے دارالاسلام میں آئیں‘‘۔
(تفہیم القرآن۔ ج:2،ص: 161)
آگے مزید لکھتے ہیں:
’’اور اس آیت کے سیاق وسباق میں صریح طور پر اس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ایک ریاست کا اپنے شہریوں اور شہریوں کا اپنی ریاست سے، اور خود شہریوں کاآپس میں ہوتا ہے۔ پس یہ آیت ’’دستوری وسیاسی ولایت‘‘ کو اسلامی ریاست سے ارضی حدود تک محدود کردیتی ہے اور ان حدود سے باہر کے مسلمانوں کو اس مخصوص رشتے سے خارج قرار دیتی ہے۔ اس عدمِ ولایت کے قانونی نتائج بہت وسیع ہیں جن کی تفصیلات بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے۔ مثال کے طور پر صرف اتنا اشارہ کافی ہوگا کہ اسی عدمِ ولایت کی بنا پر دارالکفر اور دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔ ایک دوسرے کے قانونی ولی (Guarduon) نہیں بن سکتے۔ باہم شادی بیاہ نہیں کرسکتے۔ اور اسلامی حکومت ایسے مسلمان کو اپنے ہاں ذمہ داری کا منصب نہیں دے سکتی جس نے دارالکفر سے شہریت کا تعلق نہ توڑا ہو‘‘۔
(تفہیم القرآن۔ ج:2،ص:161،ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، طبع انتالیس،جولائی 2005ئ)
اسی بات کو مولانا ثناء اللہ پانی پتی نے درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’حتیٰ یھاجروا…اسلامی ریاست کے اندر رہنے والے مسلمانوں کے اُن مسلمانوں کے ساتھ رشتۂ ولایت کی نفی کردی گئی ہے جو ہجرت کرکے نہ آئیں، کیونکہ انہوں نے فریضہ ہجرت پر عمل پیرا نہ ہونے سے فسق کا ارتکاب کیا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ فسق میں مبتلا مومن سے رشتہ ولایت قائم کرنا مکروہ ہے تاوقتیکہ وہ توبہ کرلے‘‘۔
(تفسیر مظہری: ج:4،ص:115،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
 (جاری ہے)

اسلام اور دوہری شہریت

(چوتھی اور آخری قسط)
مولانا مودودیؒ مزید فرماتے ہیں:
’’اسلامی حکومت کا دوسرا اہم حق اس کے شہریوں پر یہ ہے کہ وہ اس کے وفادار اور خیرخواہ رہیں۔ قرآن اور حدیث میں اس کے لیے نصح کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جس کا مفہوم عربی میں Layalry اورAllegianee سے زیادہ وسیع ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی سچے دل سے اپنی حکومت کی بھلائی چاہے۔ اس کو نقصان پہنچانے والی کسی چیز کو گوارا نہ کرے اور اس کی فلاح و بہبود سے قلبی وابستگی رکھے۔
یہی نہیں، اس سے بھی بڑھ کر اسلام میں شہریوں پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں اور اس کے لیے کسی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہ کریں، حتیٰ کہ اگر دارالاسلام کو کوئی خطرہ پیش آجائے تو قرآن مجید صاف الفاظ میں اس شخص کو منافق قرار دیتا ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود دارالاسلام کی مدافعت میں جان ومال کی قربانی سے دریغ کرے‘‘۔
(اسلامی ریاست: ص382۔ طبع:24، ستمبر 2008ئ،اسلامک پبلی کیشنز،لاہور)
اس بنا پر کیونکر ممکن ہے کہ کوئی فرد بیک وقت دو ریاستوں کے ساتھ عہدِ وفاداری نباہ سکے، بالخصوص دو ایسی ریاستوں کی وفاداری جو اپنے مقصدِ وجود، قانون اور طرزِ زندگی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ ضد کا رشتہ رکھتی ہوں! حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ آج جو ممالک ایک دوسرے کے حلیف اور اتحادی کا درجہ رکھتے ہیں ان کے دشمن قرار پانے میں کیا دیر لگتی ہے! اس نوع کی صورتِ حال میں دوہری شہریت کے حامل افراد کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوگا کہ کس کا ساتھ دیں اور کس کو نظرانداز کریں، کس کے حق میں اور کس کے خلاف ہتھیار اٹھائیں! اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ عملاً آج تک کسی ملک نے خطرناک ترین حالات میں بھی اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کے لیے نہیں بھیجا ہے، امریکا نے کسی عراقی کو بغداد، فلوجہ، رمادی، موصل یا کرکوک نہیں بھیجا۔ حالانکہ امریکا کے اندر ایسے عراقی باشندے بے شمار ہیں جو عراقی شہریت کے حامل ہیں۔کسی افغانی کو قندھار،ہلمندیا جلال آباد نہیں بھیجا گیا۔ جنگ کے اندر گھرے ہوئے کسی ملک میں اسی ملک کے باشندوں کو نہ بھیجنا اس بناپر نہیں ہے کہ وہاں کے حکمرانوں کوان کی جان ومال عزیز ہے،بلکہ یہ اس وجہ سے ہے کہ تمام تر عہد ومیثاق کے باوجود وہ اِن بدیسیوں کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔ یہ بھی تو سوچیے ناں کہ افغانستان میں افغان نیشنل آرمی اور پولیس کے علاوہ سوا تین لاکھ جوان امریکا اور برطانیہ سے نہیں لائے گئے، وہاں سے ریمنڈ ڈیوس آتے ہیں جو مقامی لوگوں کو اجرتی فوجی کے طور پر بھرتی کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہاں سے معین قریشی اور شوکت عزیز آتے ہیں جن کے ہوتے ہوئے مزیدکسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوہری شہریت کا قانون انہی لوگوں کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ بوقت ِضرورت کام آسکیں۔
دوہری شہریت کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ دوہری شہریت کے حامل لوگ سالانہ 12 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان کو بھیجتے ہیں، حالانکہ زرمبادلہ بھیجنے والوں کی اکثریت دوہری شہریت کے حامل لوگوں پر مشتمل نہیں ہے۔ ان میں زیادہ تر خلیجی ممالک میں مقیم لوگ ہیں جہاں غیر ملکیوں کو شہریت ملتی ہی نہیں، بلکہ یہ لوگ عمر بھر اپنے گزربسر کے لیے رقم اپنے پاس رکھتے ہیں اور اپنی پس انداز رقم کا جو حصہ وہ پاکستان بھیجتے ہیں وہ بھی کسی سرمایہ کاری کا حصہ بننے کے بجائے اس ملک میں مقیم ان کے عزیز واقارب کی ضروریات میں صرف ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ جن پاکستانیوں کو شہریت مل جاتی ہے وہ شہریت حاصل کرتے ہی پاکستان میں مقیم اپنے خاندانوں کی شہریت کے حصول میں جُت جاتے ہیں اور جیسے ہی ان کے پیاروں کو وہاں کی شہریت ملتی ہے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کا سلسلہ بھی ٹھپ ہوجاتا ہے۔
دوہری شہریت کے حامل افراد کی تو وفاداری مشکوک ہونے کے باعث شہریت ہی خطرات سے خالی نہیں ہے چہ جائیکہ انہیں قوم وملک کی تقدیر اور سفیدو سیاہ کا مالک بنادیا جائے۔ بھارت جیسے جمہوریت کے چیمپئن کہلانے والے ملک تک میں نہ صرف دوہری شہریت پر پابندی ہے بلکہ عوامی عہدوں پر ایسے لوگوں کی رسائی پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اگر کسی کو اس قوم کی خدمت کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے تو وہ یہاںآکر ان میں رہے تو سہی، تاکہ اسے یہاں کے مسائل کا ادراک ہو۔ ورنہ ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کیے بغیر وہ روٹی کو ترسنے والوں کو ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ دیتے رہیں گے اور اپنے تمام تر ’’اخلاص‘‘ اور ’’جنونِ خدمت‘‘ کے باوجود اپنی لاعلمی کے باعث غربت کے خاتمے کے نام پر غریب کا خاتمہ کرتے رہیں گے۔
آخر میں ہم اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جب 1973ء میں آئین کے اندر دوہری شہریت کو اسمبلی رکنیت کے لیے عدم اہلیت کا سبب قرار دیا گیا تھا تو پیش ِنظر یہی تھا کہ دوہری شہریت کے نتیجے میں سیاست سیاسی تصورات سے زیادہ مال ودولت کے تابع نہ ہوسکے، کیونکہ اندیشہ تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ سرمایہ ہوگا وہ سیاسی ترقیوں کے مدارج اتنی ہی سبک رفتاری سے طے کرتا جائے گا۔ وہ موہومہ خدشہ آج حقیقت اور المیہ بن چکا ہے۔ اس لیے اربابِ حل و عقد سے ہماری  التماس ہے کہ آئین کے الفاظ کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی روح کو حاصل کرنے کی بھی تدبیر کریں، تاکہ سیاست کے میدان میں سرمائے کے اثرو رسوخ کو کم کیا جاسکے۔



دارالاسلام اور دارالحرب کے احکامات



دارالاسلام اور دارالحرب کے احکامات کو خلط ملط کردینا
عصر حاضر میں جس طرح اقامت دین کے فریضہ کی ادئیگی کے لئے کھڑی ہونے والی اکثر جماعتیں اس بات کا تعین نہیں کرتیں کہ وہاں حکومت کرنے والے کی حیثیت کیا ہے ؟بالکل اسی طرح وہ اس بات کا تعین کرنے کی زحمت بھی گورانہیں کرتیں کہ جس سرزمین پر وہ یہ تحریک برپا کرنے جارہے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟آیا وہ دار الاسلام ہے یا دارا لحرب؟ کیونکہ احکام شرعیہ کا بہت بڑا حصہ اس بات پر موقوف ہے کہ آیا ان پر عمل کرنے والے دار الاسلام میں ہیں یا دارالحرب میں ۔چناچہ مفتی اعظم پاکستان محمد شفیع رحمہ اللہ اس مسئلہ کی ضرورت و اہمیت پرکلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جو لوگ فقہ اور فتاوی سے مناسبت رکھتے ہیں اُن پر یہ بات مخفی نہیں کہ تقریباً فقہ کے تمام ابواب نماز ،روزہ ،حج ،زکوۃ ،نکاح ،طلاق اور بالخصوص بیع وشراء، اجارہ و دیگر معاملات میں سینکڑو ں مسائل شرعیہ ہیں (ایسے ہیں جن کا حکم )دار الاسلام کے لئے کچھ (اور )ہے اور دار الحرب کے لئے دوسرا۔اس لئے اگر یوں کہاجائے کہ احکام شرعیہ کا ایک بہت بڑا حصہ اس پر موقوف ہے کہ ان پر عمل کرنے والے جس ملک میں آباد ہیں، پہلے اس کا دارالاسلام یا دار الحرب ہونا متعین کریں تو بالکل صحیح و درست ہے‘‘۔(’’فیصلۃ الاعلام فی دار الحرب ودار الاسلام‘‘۔بحوالہ تالیفات رشیدیہ ،ص:654،ادار ہ اسلامیات لاہور)
لہٰذا اس سے پہلے کہ ہم کسی خطۂ زمین کو دار الاسلام یا دار الحرب قرار دیں ، ہم سلف و صالحین کے فتاویٰ کی روشنی میں شرعاً ان دونوں اصطلاحات کو سمجھ لیتے ہیں۔
دارالاسلام سے مراد:
فقہا ء نے باتفاق کسی بھی علاقے کو دار الاسلام قرار دینے کے لئے دو شرطیں ہی بیان کی ہیں:
(۱)حاکم کا مسلمان ہونا ۔ (۲)احکام اسلامی کا اجراء
امام سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’وبمجردالفتح قبل اجراءاحکام الاسلام لاتصیر دارلاسلام‘‘(مبسوط سرخسی ،ص۳۲،ج10)
’’ صرف فتح کے بعد احکامِ اسلام کے اجرا ء کے بغیر دارالحرب، دارلاسلام میں تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘
’’وکذلک لو فتح المسلمون أرضاً من ارض العدو حتی صارت فی ایدیھم وھرب اھلھا عنھا۔لانھا صارت دار الاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا‘‘۔(شرح السیر الکبیر؛ج:2ص:185)
’’اسی طرح اگر مسلمان دشمنوں کی کوئی زمین فتح کرلیں یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ماتحت ہوجائے اور اس کے رہنے والے بھاگ جائیں (یعنی مغلوب ہوجائیں)تویہ علاقہ احکام اسلام کے ظاہر ہونے سے دار الاسلام قرارپائے گا‘‘۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’دار الحرب تصیر دارالاسلام باجراءاحکام اھل الاسلام فیھا‘‘(فتاویٰ ابن عابدین شامی ۔ص175،ج4)
’’اور دارالحر ب میں اہل ِ اسلا م کے احکامات جاری ہونے سے وہ دارالاسلام میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔‘‘
امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی متو فی a 587ھ ،اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’بدائع الصنائع‘‘میں فرماتے ہیں:
’’لاخلاف بین اصحابنافی ان دارالکفر تصیر دارالاسلام لظھوراحکام الاسلام فیھا‘‘(بدائع الصنائع ۔ص130،ج7)
’’ہمارے علماءمیں اس بات کا کسی میں اختلاف نہیں ہے کہ دارالکفر، دارلاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام ظاہر ہونے سے۔‘‘
’’صارت الدار دارالاسلام بظھوراحکام الاسلام فیھا من غیر شریطةاخری‘‘ (بدائع الصنائع۔ص131،ج7)
’’دارالکفر،دارالاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام جاری ہونے سے دوسری کسی شرط کے بغیر۔‘‘
دار الحرب سے مراد:
جس طرح دار الحرب کا کوئی بھی علاقہ اس وقت تک دار الاسلام قرار نہیں پاسکتا جب تک اس میں مکمل اسلامی احکام کا اجراء اور ظہور نہ ہوجائے۔اسی طرح کوئی بھی علاقہ جوکہ دار الاسلام کاحصہ ہووہ اس وقت تک دار الحرب میں تبدیل نہیں ہوتاجب تک کہ اس میں کچھ نقائص پیدا نہ ہوجائیں۔چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’رد المختار ‘‘میں لکھتے ہیں :
((لا تصیردار الاسلام دارالحرب الا بأمور ثلا ثة باجراء احکام ا ھل الشرک وبا تصالھابدارالحرب، وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی امنا بالامان الاول علی نفسہ))(فتاویٰ شامی ،ص174،ج4)
’’دارالاسلام دارالحرب میں تبدیل نہیں ہوتا مگر تین چیزوں کے پائے جانے سے :
(۱)………اہل شرک کے احکام جاری ہونے سے اور
(۲)………اس شہر کا دارالحرب سے متصل ہونے سے اور
(۳)………یہ کہ وہاں کوئی مسلمان یا ذمی اپنی ذات اور دین کے اعتبار سے امن اول سے مامون رہے۔‘‘
یہاں اہل شرک سے اہل کفر مراد ہیں یعنی اہل کفر کے احکام علی الاعلان بلاروک ٹوک جاری ہوں ، احکام اسلام وہاں جاری نہ ہوں اور دارالحرب سے متصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ دونوں’’دار‘‘کے درمیان دار الاسلام کاکوئی اورعلاقہ موجود نہ ہو اور امن اول سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے سبب اور ذمی کو عہدِذمہ کی سبب کفار کے غلبے سے پہلے جو امن تھا ،وہ امن کفار و مرتدین کے غلبہ کے بعد مسلمان اور ذمی دونوں کے لئے باقی نہ رہے۔یہ رائے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ کے نزدیک مذکورہ امور میں سے صرف ایک ہی امر سے دارالحرب بن جاتا ہے یعنی دارالاسلام میں صرف احکام کفر جاری ہونے سے وہ دارالحرب بن جاتا ہے اور یہی قول فقہ حنفی میں قرین قیاس ہے۔جیساکہ
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
’’وقال ابو یوسف رحمةاللّٰہ علیہ ومحمد رحمة اللّٰہ علیہ بشرط واحد لاغیر وھواظھار احکام الکفر وھو القیاس‘‘۔(فتاوی عالمگیری بحوالہ تالیفات رشیدیہ بعنوان ’’فیصلۃ الاعلام فی دار الحرب ودار الاسلام‘‘۔ص:667)
’’اور امام ابویوسف اور امام محمد ;فرماتے ہیں کہ صرف ایک شرط محقق ہونے سے دار الحرب کا حکم کردیا جائے گا اور وہ شرط یہ ہے کہ احکام کفر کو علی الاعلان جاری کردیں اور قیاس (بھی فقہ حنفی کے نزدیک)اسی کا متقاضی ہے‘‘۔
علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی:
’’وعن ابی یوسف و محمد رحمھما اللّٰہ تعالیٰ اذااظھروا احکام الشرک فیھا فقد صارت دارھم دار حرب ،لأن البقعة انما تنسب الینا او الیھم باعتبار القوة والغلبة،فکل مقضع ظھر فیھا حکم الشرک فالقوة فی ذلک الموضع للمشرکین فکانت دار حرب وکل موضع کان الظاھر فیہ حکم الاسلام فالقوة فیہ للمسلمین‘‘(مبسوط سرخسی،ج:12ص:258۔بدائع الصنائع۔ص194،ج7)
’’امام ابو یوسف اور امام محمد ;سے منقول ہے کہ اگر دارالاسلام کے کسی علاقہ میں(حکام)احکام شرک کا اظہار کردیں (یعنی علی الاعلان نافذ کردیں)تو ان کا دار، دارالحرب ہوگا۔اس لیے کہ کوئی بھی علاقہ ہماری یا ان (کفار)کی جانب قوت اور غلبہ ہی کی بنیاد پر منسوب ہوتاہے۔جس جگہ احکام شرک نافذ ہوجائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جگہ مشرکین کو اقتدار اور قوت حاصل ہے ،اس لحاظ سے وہ ’’دار الحرب‘‘ ہے۔اس کے برعکس جس جگہ ’’حکم ‘‘، اسلام کا ظاہر اورغالب ہو تووہاں گویامسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے(اور وہ دار الاسلام ہے)‘‘۔
دار الاسلام اور دارالحرب کی شرعی تعریفات جاننے کے بعدان لوگوں کے شبہات کاازالہ ازخودہوجاتاہے کہ جو پاکستان کو دارا لاسلام سمجھتے ہوئے اس میں دار الاسلام کے احکامات لاگو کرتے ہوئے یہاں ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘کو شرعی طورپر ناجائز تصور کرتے ہیں۔جیساکہ قائد جمعیت بارہا کہہ چکے ہیں کہ :
’’ہم پاکستان میں مسلح جہاد کو شرعی طور پردرست نہیں سمجھتے ‘‘۔
لیکن یہ بات واضح ہے کہ پاکستان اوّل دن سے کسی صورت بھی’’دار الاسلام ‘‘کی تعریف پر صادق نہیں آیا کیونکہ یہاں پر کلی طور پر کبھی بھی احکام اسلامی کا مکمل اجراء ہوا ہی نہیں بلکہ الٹا ’’آئین ودستور ‘‘کے نام پر احکامِ کفرو شرک کا نفاذ ہی بڑھتا چلاجارہا ہے۔لہٰذا آج پاکستان ’’دارالحرب‘‘کی تعریف پر صادق آتا ہے،اور جو جگہ دارالحرب قرار پائے تو اس جگہ کے احکامات یکسر بدل جاتے ہیں اور وہاں احکام اسلامی کے اجراء کے لئے’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘فرض عین ہوجاتاہے ، جس سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ﴾اندھیروں سے روشنی کی طرف صفحہ نمبر: 126
About these ads